republic of Turkmenistan


ترکمانستان کا تعارف

ترکمانستان وسطی ایشیا کا ایک نمایاں ملک ہے جو اپنی منفرد ثقافت، تاریخی پس منظر، اور قدرتی وسائل کی بدولت عالمی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ملک اپنی کم آبادی، صحرائی جغرافیہ اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کے لیے جانا جاتا ہے۔

ترکمانستان کی آبادی اور نسلی پس منظر

ترکمانستان کی آبادی تقریباً 65 لاکھ افراد پر مشتمل ہے، جس میں 90 فیصد سے زائد لوگ مسلمان ہیں۔ زیادہ تر لوگ ترک نژاد ہیں، جبکہ کچھ اقلیتیں ازبک، روسی اور قازق نسل سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔

ترکمانستان کا جغرافیہ

ترکمانستان کا کل رقبہ 488,100 مربع کلومیٹر ہے اور یہ افغانستان، ازبکستان، قازقستان اور ایران سے متصل ہے، جبکہ اس کا مغربی کنارہ بحیرہ کیسپیئن کے ساتھ لگتا ہے۔

آب و ہوا

یہاں کی آب و ہوا گرم اور خشک ہے، جہاں صحرائی علاقے زیادہ ہیں۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ سردیوں میں درجہ حرارت منفی ڈگری تک گر سکتا ہے۔

ترکمانستان کی تاریخ

سوویت یونین سے آزادی

ترکمانستان کو 1924 میں سوویت ریپبلک کا درجہ دیا گیا، لیکن یہ سوویت یونین کا حصہ رہا۔ 27 اکتوبر 1991 کو ترکمانستان نے آزادی حاصل کی اور ایک خودمختار ملک بن گیا۔

پاکستان اور ترکمانستان کے تعلقات

پاکستان نے ترکمانستان کی آزادی کو سب سے پہلے تسلیم کیا اور 10 مئی 1992 کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

ترکمانستان کے اہم شہر

اشک آباد – دارالحکومت

اشک آباد ترکمانستان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے، جو 440 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ شہر اپنی جدید تعمیرات، تاریخی عمارتوں، اور وسیع سڑکوں کے لیے مشہور ہے۔

دیگر بڑے شہر

دیگر اہم شہروں میں مرو، ترکمان آباد، داشوغوز، اور بَلخان آباد شامل ہیں، جو ملک کی معیشت اور ثقافت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ترکمانستان کی معیشت اور وسائل

ترکمانستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، خاص طور پر اس کے قدرتی گیس کے ذخائر دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں شامل ہیں۔

قدرتی وسائل

  • قدرتی گیس
  • تیل
  • گندھک
  • نمک

زرعی پیداوار

ملک میں زراعت بھی ایک اہم شعبہ ہے، جہاں کپاس، گندم، چنا، اور مختلف پھلوں کی کاشت کی جاتی ہے۔

پاکستان اور ترکمانستان کے تعلقات

پاکستان اور ترکمانستان کے تعلقات تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ دونوں ممالک نے کئی معاہدے کیے ہیں، جن میں TAPI گیس پائپ لائن پروجیکٹ بھی شامل ہے، جو پاکستان، ترکمانستان، افغانستان، اور بھارت کے درمیان ایک اہم اقتصادی منصوبہ ہے۔

پاکستان میں ترکمانی برادری

پاکستان میں ترکمانی برادری کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، جو زیادہ تر 1917 کے روسی انقلاب کے بعد یہاں آئی تھی۔ آج یہ برادری پاکستان کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔

نتیجہ

ترکمانستان اپنی تاریخ، جغرافیہ، اور قدرتی وسائل کی وجہ سے وسطی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے۔ اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات دوستی اور باہمی تعاون پر مبنی ہیں، جو مستقبل میں مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات 


1. ترکمانستان کہاں واقع ہے؟

ترکمانستان وسطی ایشیا میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں افغانستان، ازبکستان، قازقستان، ایران، اور بحیرہ کیسپیئن سے ملتی ہیں۔


2. ترکمانستان کی سرکاری زبان کون سی ہے؟

ترکمانستان کی سرکاری زبان ترکمانی ہے، لیکن روسی زبان بھی عام طور پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

3. ترکمانستان کی معیشت کا سب سے بڑا ذریعہ کیا ہے؟

ترکمانستان کی معیشت کا سب سے بڑا ذریعہ قدرتی گیس اور تیل ہے، جو ملکی برآمدات کا بڑا حصہ بناتے ہیں۔


4. کیا ترکمانستان میں مسلمان زیادہ ہیں؟

جی ہاں، ترکمانستان کی تقریباً 90 فیصد آبادی مسلمان ہے، جن میں زیادہ تر سنی اسلام کے پیروکار ہیں۔

5. ترکمانستان کب آزاد ہوا؟

ترکمانستان نے 27 اکتوبر 1991 کو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آزادی حاصل کی۔

6. ترکمانستان کا دارالحکومت کون سا ہے؟

ترکمانستان کا دارالحکومت اشک آباد ہے، جو ملک کا سب سے بڑا اور جدید شہر بھی ہے۔

7.  پاکستان اور ترکمانستان کے تعلقات کیسے ہیں؟

پاکستان اور ترکمانستان کے تعلقات دوستانہ اور باہمی تعاون پر مبنی ہیں۔ TAPI گیس پائپ لائن جیسا بڑا منصوبہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

8. ترکمانستان میں کون سے قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں؟

ترکمانستان میں قدرتی گیس، تیل، گندھک، اور نمک جیسے قیمتی وسائل موجود ہیں۔

9. ترکمانستان کی آبادی کتنی ہے؟

ترکمانستان کی آبادی تقریباً 65 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

10. ترکمانستان میں مشہور شہر کون سے ہیں؟

ترکمانستان کے مشہور شہروں میں اشک آباد، مرو، ترکمان آباد، داشوغوز، اور بَلخان آباد شامل ہیں۔


Post a Comment

Previous Post Next Post